Saturday, 6 June 2009

سرجن بابا: روحانی آپریشن سے علاج








آخری وقت اشاعت: Thursday, 4 june, 2009, 20:18 GMT 01:18 PST


سرجن بابا: روحانی آپریشن سے علاج

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ٹھٹہ، سندھ

مزار کے احاطے کے اندر اور باہر کوئی ایک درجن کے قریب افراد زنجیروں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں
دونوں بڑے کمروں میں سے درد انگیز چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں مگر یہ کسی ہسپتال کا منظر نہیں بلکہ شاہ یقیق اور جلالی بابا کی درگاہوں پر موجود مرد اور عورتوں کی آوازیں تھیں جو درگاہ کے جنگلوں سے لپٹے ہوئے تھے۔
سندھ کےساحلی شہر ٹھٹہ سے تقریباً اسی کلومیٹر دور سجاول روڈ پر واقع ان دونوں درگاہوں پر کئی لوگ اپنی بیماریاں لے کر آتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ وہ یہاں سے صحتیاب ہوکر جائیں گے۔ ان مزاروں پر سارا دن زائرین کی آمد جاری رہتی ہے۔
شاہ یقیق عرف سرجن بابا کی درگاہ پر آنے والے زائرین کا ماننا ہے کہ جن بیماریوں کا علاج بڑے بڑے سرجن نہیں کرسکے ان بیماریوں میں مبتلا مریض یہاں روحانی آپریشن کے بعد صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ہی کسی عقیدت مند نے مزار کے دروازے پر سرجن بابا لکھوا دیا ہے۔
درگاہوں میں ایک مسافر خانہ بھی موجود ہیں جسے وارڈ تصور کیا جاتا ہے اور زمین پر لگے ہوئے بستر بیڈ سمجھے جاتے ہیں۔
مسافر خانے کے بستر نمبر ایک پر موجود مسماۃ توفیق گزشتہ بیس سال سے یہاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور ڈاکٹروں نے انہیں لاعلاج قرار دے دیا تھا جس کے بعد انہیں خواب میں حکم ہوا اور وہ یہاں آگئیں۔
جب یہاں آئی تو ڈھانچہ تھی اور مرنے کے قریب تھی مگر خدا کا شکر ہے کہ یہاں شاہ یقیق نے ہمارے پر ہاتھ رکھا اور زہر نکالا ورنہ میں نے تو چھ ماہ سے روٹی بھی نہیں کھائی تھی صرف دلیہ کھا رہی تھی
توفیق جہاں
’میں جب یہاں آئی تو ڈھانچہ تھی اور مرنے کے قریب تھی مگر خدا کا شکر ہے کہ یہاں آئی تو انہوں نے ( شاہ یقیق ) نے ہم پر ہاتھ رکھا اور زہر نکالا ورنہ میں نے تو چھ ماہ سے روٹی بھی نہیں کھائی تھی صرف دلیہ کھا رہی تھی۔‘
یہاں آنے والے زائرین میں اکثر شوگر، کینسر، گردے ، پیٹ کی تکلیف اور بینائی کی کمزوری جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ان میں بزرگ عبدالرحمان بھی شامل ہیں جو ہزارہ کے رہائشی ہیں۔’پاؤں میں شوگر کا زخم تھا جو ٹھیک ہوگیا مگر دوبارہ ہوگیا ہے پھر ٹھیک ہوجائے گا۔‘ عبدالرحمان کو درگاہ پر آئے گیارہ سال ہوگئے ہیں۔ وہ شوگر میں مبتلا ہونے کے باوجود کوئی پرہیز نہیں کرتے مگر پھر بھی انہیں یقین ہے کے زخم ٹھیک ہوجائے گا۔
شاھ یقیق کے مزار پر لنگر حاصل کرنے کے لئے ہسپتال جیسا ہی نظام رائج ہے یعنی مریض کا نام درج کرانا لازمی ہے۔
مزار پر ایک نوجوان مچھیرے سے بھی ملاقات ہوئی جن کو پیٹ میں تکلیف کی شکایت تھی۔ ان کا کہنا ہے ڈاکٹر اس بیماری کا پتہ نہیں چلا سکے اس لیے وہ یہاں آئے ہیں اور اب بہت بہتر محسوس کر رہے ہیں۔
مزار کے داخلی راستے پر ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں تصویر اتارنے سے منع کیا گیا ہے اور برابر میں موجود قبریں جو سید زادیوں کی بتائی جاتی ہیں وہاں صرف خواتین کو جانے کی اجازت ہے۔
احاطے میں داخل ہوتے ہی سیدھے ہاتھ پر ایک شخص نے کئی پڑیاں لٹکا رکھی ہیں۔ لوگ پانچ، دس یا اس سے زائد روپے دے کر یہ پڑیاں لیتے ہیں۔ اس شخص نے پوچھنے پر بتایا کہ ان میں صرف نمک ہے جبکہ دیئے میں استعمال ہونے والے تیل بھی وہ تبرک کے طور پر دیتے ہیں۔

یہاں آنے والے کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان پر بھوت پریت کا سایہ یا ان پر جادو کیا گیا ہے
مزار کے باہر ایک قدیمی کنواں موجود ہے جس کے پانی کی شفاء کی کئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔
شاہ یقیق کے مزار سے چند قدم کے فاصلے پر عبداللہ شاہ بخاری عرف جلالی بابا کا مزار ہے۔ اس مزار کے چاروں طرف زمین پر لوگوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ یہاں کوئی والدہ کو لے کر آیا ہے، کوئی والد تو کوئی اپنی نوجوان لڑکی کی وجہ سے پریشان نظر آتا ہے۔
یہاں آنے والے کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان پر بھوت پریت کا سایہ یا ان پر جادو کیا گیا ہے۔
کراچی سے آنے والی ایک خاتون نے بتایا ’مجھ پر شادی سے پہلے ہی سفلی کالا علم کیا گیا تھا جس میں شادی کی بندش بھی تھی مگر ظاہر بعد میں ہوا۔ میں نے سنا تھا کہ یہاں غیبی علاج ہوتا ہے مگر مانتی نہیں تھی کیونکہ ہم وہابی مسلک کے لوگ ہیں۔ یہاں میں آئی اور دعا مانگی کہ اگر آپ واقعی علاج کرتے ہیں تو مجھے گھر سے بلا لیں۔ جس کے بعد گھر گئی اور بشارت ملی۔‘
یہ خاتون جنہیں اب طلاق ہوچکی ہے کا کہنا ہے کہ انہیں یہ پتہ ہے کہ ان پر کس نے جادو کیا ہے اور یہ سب کچھ انہیں حاضری میں بتایا گیا ہے اور یہ بات جادو کرنے والی خاتون بھی جانتی ہیں۔
ان مزاروں پر مختلف مذاہب اور فرقے کے لوگ نظر آتے ہیں۔ جلالی بابا کے مزار کے کمرے میں عطر کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوتی ہے۔ اور چندے کی پیٹی پر ایک شخص موجود ہے جو مور کے پروں سے بنا ہوا جھاڑو سر پر پھیرتا ہے اور زائرین حسب حیثیت رقم پیٹی میں ڈال دیتے ہیں۔
لوگوں کو زنجیروں سے باندھنا جرم ہے اور وہ لوگوں کو ایسا کرنے سے روکتے ہیں ۔ مگر ان کا کنہا ہے کہ یہ مریض بھاگ جائیں گے اور کسی کو نقصان پہنچائیں گے۔جس کے بعد وہ خود ان کو باندھ دیتے ہیں
محمد عرس
شاھ یقیق اور جلالی بابا کے مزاروں کے درمیاں موجود گلی میں بازار ہے جس میں ہوٹل اور پھولوں کے دوکانیں ہیں جن سے ہر زائرین پانچ روپے کی اگربتی، پانچ کے پھول اور دس روپے کا تیل خریدتا ہے۔ جبکہ ہوٹل پر بھارتی فلموں کے گیتوں کے ساتھ قوالیاں بھی سننے کو ملتی ہیں۔
محمد شریف جن کی عمر ساٹھ سال ہوگی اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ آئے تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
محد شریف نے بتایا کہ ’ پہلے بھی آئے تھے سرکار نے ٹھیک کردیا تھا، گھر جاتے ہیں یہ چیخ و پکار کرتے اور دوڑتے ہیں ۔ لیکن یہاں آ کر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ نشے نہیں کرتے وہ لوگوں کی طرف اشارہ کرتے کہتے ہیں کہ یہ سب حاضری والے ہیں کسی پر جنات تو کسی پر بھوت ہے ۔‘
ایک نوجوان لڑکی جس نے شرٹ اور جینز پہنی ہوئی تھی اور اس کے اوپر ابایا پہنا تھا۔ مزار کے اندر چکر لگاتی رہی تھی جبکہ اس کے پیچھے اس کی ماں آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔وہاں ایسی کئی اور بھی نوجوان لڑکیاں تھیں جن کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔
ان لڑکیوں میں سے ایک کے والد سے بیماری دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ ’ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں بخار آتا ہے ڈاکٹروں کے پاس گئے تھے مگر فائدہ نہیں ہوا جس کے بعد خواب میں حکم ہوا اور انہیں یہاں لے کر آ گئے ہیں۔ ہمارا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ جس کا ایمان سچا ہے وہ یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جاتا لیکن وقت ضرور لگتا ہے ۔‘
دونوں مزاروں پر ٹھٹہ اور بدین کے ان علاقوں سے لوگ آتے جہاں صحت کی کوئی سہولت نہیں مگر اکثریت کراچی کے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی ہے۔
جلالی بابا کے مزار کے عقب میں موجود ہوٹلوں کا پانی ایک گڑھے میں جمع ہوتا ہے جہاں سے لوگ مٹی نکال کر چہرے، سر اور آنکھوں کو ملتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے انہیں راحت ملتی ہے۔
مزار کے احاطے کے اندر اور باہر کوئی ایک درجن کے قریب افراد زنجیروں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان دونوں مزاروں کی سرپرستی حکومت کا محکمہ اوقاف کرتا ہے۔ محکمہ کے اہلکار محمد عرس خود بھی معجزات اور ان مزاروں سے شفا ملنے پر یقین رکھتے ہیں۔ لوگوں کو زنجیروں سے باندھنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ جرم ہے اور وہ لوگوں کو ایسا کرنے سے روکتے ہیں مگر لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے یہ رشتہ دار بھاگ جاتے ہیں اور کسی کو نقصان پہنچائیں گے اس لیے وہ خود ہی ان کو باندھ دیتے ہیں۔
شاہ یقیق اور جلالی بابا کی مزاروں کے قریب کچھ دیگر مزار بھی موجود ہیں جن کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اب بنے ہیں۔ لیکن اب ان پر بھی لوگ جاکر دیئے روشن کرتے ہیں۔
دونوں مزاروں پر ٹھٹہ اور بدین کے ان علاقوں سے لوگ آتے جہاں صحت کی کوئی سہولت نہیں مگر اکثریت کراچی کے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی ہے۔
چار سو گھروں پر مشتمل گاؤں شاہ یقیق میں پینے کے صاف پانی کی بھی سہولت موجود نہیں ہے۔ جبکہ مزاروں کی موجودہ عمارتیں بھی زائرین نے ہی بنوائی ہیں ۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ درگاہیں روزگار کا ذریعہ اور زائرین کے لیے بیماری سے نجات کا وسیلہ ہیں۔

Wednesday, 20 May 2009

بلڈ پریشر پر قابو کے لیے دوائیں

آخری وقت اشاعت: Wednesday, 20 may, 2009, 10:19 GMT 15:19 PST








بلڈ پریشر پر قابو کے لیے دوائیں
سے بڑی عمر کے لوگوں کو فشار خون یا بلڈ پریشر پر قابو کے لیے دواؤں کا استعمال ضرور کرناچاہیے۔
وبائی امراض کی روک تھام کرنے والے پروفیسر میلکوم لا کا کہنا ہے کہ خون کا دباؤ پر قابو کی دواؤں کے استعمال سے نہ صرف ہائی بلکہ نارمل بلڈ پریشر والے لوگ بھی ہارٹ اٹیک یا دل کے دورے سے بچ سکتے ہیں۔
برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے لیے ایک سو سینتالیس جائزوں کو بنیاد بنایا گیا ہے جن میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد سے رابطہ کیا گیا۔
تاہم سٹروک ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اس طریقہ علاج کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
اس تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والی زیادہ تر دواؤں سے ہارٹ اٹیک اور دل کے مکمل طور پر کام بند ہونے جیسے مراحل کو ایک چوتھائی جبکہ دیگر امراض کے خطرات کو ایک تہائی تک کم کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں خون کے دو طرح کے دباؤ جائزہ لیا گیا۔ ایک سسٹولک پریشر یعنی وہ دباؤ جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خون دل سے شریانوں میں جاتا ہے اور دوسرا ڈاسٹولک پریشر جو شریانوں میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل آرام کرتا ہے۔
پروفیسر لا جو لندن سکول آف میڈیسن کے محقق ہیں کا کہنا ہے کہ ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد ہر شخص کو ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہوسکتا ہے لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ ان تمام افراد کو اسے کنٹرول کرنے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔

محقق: پروفیسر لا
ان کا مزید کہنا تھا کہ انگلینڈ اور ویلز میں پینسٹھ سال سے زائد عمر کے افراد میں اگلے دس سال میں دس فی صد مردوں جبکہ پانچ فی صد خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ موجود ہے۔
لیکن کہا جاتا ہے کہ پروفیسر لا بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے والی دوا ’پولی پل‘ کے خالق ہیں جو ان کے خیال میں برطانیہ ہارٹ اٹیک اور دل کے دوسرے امراض میں کمی لانے کے لیے موثر ثابت ہو سکتی ہے۔
لیکن سٹروک ایسوسی ایشن کے جون مرفی کا کہنا ہے کہ ’دماغ کی شریان پھٹنے کی واحد وجہ ہائی بلڈ پریشر ہوتا ہے لہٰذا یہ بہت ا ہم ہے کہ اس کو قابو کرنے کے لیے ادویات کا استعمال کیا جائے۔ تاہم ان ادویات کے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں ۔ اس لیے ان کا استعمال صرف ان لوگوں کو تجویز کیا جائے جو انتہائی خطرے سے دوچار ہوں۔‘
بلڈ پریشر ایسوسی ایشن کے مائیک رچ کا کہنا ہے کہ’پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ لہٰذا ہائی بلڈ پریشر کو وزن کم


کر کے، زیادہ پھل اور سبزیاں کھا کے، کھانے میں نمک کی مقدار کم کر کےکنٹرول کیا جا سکتا ہے

http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2009/05/090520_blood_pressure_pill_rr.shtml
۔

Tuesday, 19 May 2009

Former President, Gen (R) Pervez Musharraf appears on CNN’s Fareed Zakaria program

Musharraf- US Failure in Afghanistan Brought Taliban to Pakistan Also
Posted on 18 May 2009 Tags: , , , , , , , , , , , , , ,
Former President, Gen (R) Pervez Musharraf appears on CNN’s Fareed Zakaria program GPS. He gives candid responses to Zakaria’s probing questions with frankness and outspokenness including calling a spade a spade with respect to Pak-Afghan relations, Pak-US friendship over the years, shortcomings of the War on Terror being fought in Afghanistan, and how Taliban now control more than 50 percent of Afghanistan thereby becoming a problem for Pakistan rather than the other way as being perceived by many.
Fareed Zakaria of CNN’s sit-down with Pervez Musharraf was an exclusive interview. Musharraf is the guest for the hour and they also discuss his years in power and resignation, Pakistan’s deadly struggle against the Taliban, strained relations between India and Pakistan, and Benazir Bhutto’s death including charges that he might have been involved in it.
Plus, Musharraf explains what happened to America’s $10 billion in aid to Pakistan over the last 10 years, and whether or not he would consider running again for office. A Must Watch!



http://pkonweb.com/2009/05/18/musharraf-interviewed-by-fareed-zakaria-on-cnn/







video

Saturday, 2 May 2009

وسٹا کے بعد ونڈوز 7 تیار

















آخری وقت اشاعت: Saturday, 2 may, 2009, 02:37 GMT 07:37 PST

http://www.bbcurdu.com/


وسٹا کے بعد ونڈوز 7 تیار

سافٹ ویئر کی سب سے بڑی کمپنی مائیکرو سافٹ اگلے ہفتے ونڈوز کے نئے ورژن کی نمائش کر رہی ہے۔
نیا سافٹ ویئر’ونڈوز سیون‘ ونڈوز وسٹا کے بعد کا ورژن ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بار وہ سب کچھ نہیں ہوگا جو ونڈوز وسٹا کے اجرا کے موقع پر ہوا تھا۔
ونڈوز وسٹا کے اجرا پر صارفین نے شکایت کی تھی کہ یہ پروگرام دوسرے کئی سافٹ ویئر سے ہم آہنگی نہیں رکھتا جس کی وجہ انہیں اپنے کمپیوٹروں پر مزید رقم خرچ کرنی پڑی تھی۔
مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ ونڈوز سیون کی دوسرے تمام پروگرموں سے ہم آہنگی ہو گی اور صارفین کو ونڈوز سیون استعمال کرنے کے لیے نئے کمپیوٹر یا موجودہ کمپیوٹر کے اپ گریڈ پر خرچا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
برطانیہ میں مائیکروسافٹ کےڈائریکٹر جان کرن نے بی بی سی کو بتایا کہ ونڈوز وسٹا کی لانچ کےموقع پر بعض صارفین کو مشکلات پیش آئی تھیں لیکن اس بار ایسی صورتحال سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جان کرن نے کہا کہ مائیکروسافٹ نے ماضی سے سبق سیکھا ہے اور اپنے پارٹنرز کے ساتھ ملکر ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو تمام پرانے سافٹ ویئر سے مطابقت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا جن صارفین کے کمپوٹر ونڈوز وسٹا چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ونڈوز سیون بھی چلا سکیں گے۔
مائیکروسافٹ نے ونڈوز وسٹا کو پہلی نمائش کے پانچ ماہ بعد صارفین کے لیے جاری کر دیا تھا لیکن ونڈوز سیون کے بارے میں کمپنی کوئی تاریخ دینے سے گریزاں ہے۔
مائیکروسافٹ ڈائریکٹر جان کرن کا کہنا ہے کہ ونڈوز سیون صرف اسی وقت جاری کیا جائے گا جب وہ تیار ہوگا۔انہوں نے کہا مائیکروسافٹ نے ونڈوز وسٹا کے اجرا کے تین سال کے بعد نیا ورژن جاری کرنے کا پروگرام بنایا تھا اوراس کے مطابق جنوری دو ہزار دس میں ونڈوز سیون صارفین کی دسترس میں ہونا چاہیے۔
جن کمپوٹر ماہرین کو ونڈوز سیون کو ٹیسٹ کرنے کا موقع ملا ہے ان کا کہنا ہے کہ نیا سافٹ ویئر ونڈوز وسٹا سے رفتار میں بہتر ہے اور اس کے ساتھ کمپیوٹر کے آن اور آف ٹائم میں خاصی کمی ہو جاتی ہے۔

Monday, 27 April 2009

یونیسکو کی مفت ڈیجیٹل لائبریری

یونیسکو کی مفت ڈیجیٹل لائبریری
http://www.bbcurdu.com/
آخری وقت اشاعت: Tuesday, 21 april, 2009, 14:38 GMT 19:38 PST











یہ لائبریری اقوامِ متحدہ کی سات سرکاری زبانوں میں دستیاب ہے
اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے، یونیسکو نے انٹرنیٹ پر ایک ایسی ڈیجیٹل لائبریری کی بنیاد رکھی ہے جس پر پوری دنیا کی لائبریریوں اور قدیم دستاویزات کا مواد مہیا کیا گیا ہے۔
اس مواد میں گیارہویں صدی کا ایک جاپانی ناول، امریکہ کے نام کے ساتھ پہلا نقشہ اور جنوبی افریقہ سے ایک آٹھ ہزار سال پرانی ہرن کی تصویر بھی شامل ہے۔
دنیا کی تین اہم ڈیجیٹل لائبریریوں میں شامل یہ لائبریری دنیا کا ہر فرد بغیر کسی معاوضے کے استعمال کر سکتا ہے۔
یہ لائبریری اقوامِ متحدہ کی سات سرکاری زبانوں میں دستیاب ہے جن میں انگریزی، عربی، چینی، فرنچ، پرتگیزی، روسی اور ہسپانوی شامل ہیں۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ یہ لائبریری دنیا کے ثقافتی خزانوں کو ڈیجیٹل شکل میں ایک وسیع طبقے تک پہچانے کی کوشش ہے اور امید ہے کہ اس سے غریب اور امیر کے درمیان ’ ڈیجیٹل تقسیم‘ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

Sunday, 29 March 2009

عالمی سائبر جاسوسی نظام کا انکشاف






آخری وقت اشاعت: Sunday, 29 March, 2009, 06:04 GMT 11:04 PST http://www.bbcurdu.com/

عالمی سائبر جاسوسی نظام کا انکشاف

ہیکرز نے دلائی لامہ کے دفتر سے حساس معلومات چرائی ہیں
کینیڈا سے تعلق رکھنے والے محققین نے دعوٰی کیا ہے کہ ایک عالمی سائبر جاسوسی نظام کی مدد سے ہیکرز نے دنیا بھر کے ایک سو تین ممالک میں سرکاری اور نجی اداروں کی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کی ہے۔

یہ بات انفارمیشن وار فئیر مانیٹر نامی گروپ کی دس ماہ کی تحقیق کے بعد آن لائن شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

محققین کے مطابق ’گھوسٹ نیٹ‘ نامی یہ جاسوسی نظام بنیادی طور پر چین میں قائم ہے اور اس کا نشانہ بنیادی طور پر ایشیائی حکومتیں رہی ہیں جبکہ اس کے ہیکرز نے دلائی لامہ اور دیگر تبتی جلا وطن شخصیات کے کمپیوٹرز بھی کھنگالے ہیں۔

کینیڈین گروپ کے رکن گریگ والٹن کے مطابق ’ ہمارے ہاتھ ایسے ثبوت لگے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ تبتی کمپیوٹر نظام میں داخل ہو کر دلائی لامہ کے نجی دفتر سے حساس معلومات چرائی گئی ہیں‘۔

اس جاسوسی نظام کے تحت ایران، بنگلہ دیش، لٹویا، انڈونیشیا ، برونائی اور بارباڈوس کی وزارتِ خارجہ اور پاکستان، بھارت، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، رومانیہ، قبرص، مالٹا، تھائی لینڈ، تائیوان، پرتگال اور جرمنی کے سفارتخانوں کے قریباً تیرہ سو کمپیوٹرز ہیک کیے گئے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تجزیے سے یہ تو صاف ظاہر ہے کہ اس جاسوسی نظام کا مرکز چین ہے لیکن اسے چلانے والے ہیکرز کی شناخت یا عزائم کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس سلسلے میں جب چین کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ اطلاعات سے رابطے کی کوشش کی گئی تو وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

سائبر جاسوسی پر تحقیق کرنے والے کینیڈین گروپ نے اپنی تحقیق کے دوران پتہ چلایا کہ اس جاسوسی نظام کے تحت ایران، بنگلہ دیش، لٹویا، انڈونیشیا ، برونائی اور بارباڈوس کی وزارتِ خارجہ اور پاکستان، بھارت، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، رومانیہ، قبرص، مالٹا، تھائی لینڈ، تائیوان، پرتگال اور جرمنی کے سفارتخانوں کے قریباً تیرہ سو کمپیوٹرز ہیک کیے گئے۔ ان کمپیوٹرز تک رسائی کے بعد ہیکرز نے ان میں ایسے سافٹ ویئر نصب کر دیے جن کی مدد سے نہ صرف وہ انہیں کنٹرول کر سکتے تھے بلکہ ان پر موجود مواد بھی باہر بھیج سکتے تھے۔

اس تحقیق میں شامل کیمرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے دو محققین بھی اسی سلسلے میں ایک رپورٹ اتوار کو جاری کر رہے ہیں۔


http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2009/03/090328_china_spy_network_zs.shtml

Monday, 2 March 2009

Caught on film: India ‘not shining’ Arundhati Roy – Exclusive for Dawn.com








Caught on film: India ‘not shining’
Arundhati Roy –
Exclusive for Dawn.com Monday, 02 Mar, 2009 11:05 AM PST




'Slumdog Millionaire' child actor Azharuddin Mohammed Ismail is served his dinner by his mother Shamim Begum, right, in his home in a slum in Bandra, suburban Mumbai, India, Thursday, Feb. 26, 2009. The child stars of the Oscar-winning “Slumdog Millionaire” have returned to India to a chaotic, but rousing, heroes' welcome, following their appearance on the red carpet at the recent Oscar ceremony, where the movie “Slumdog Millionaire,” a tale of hope amid adversity set in Mumbai, was awarded eight Oscars, including best picture and best director for Danny Boyle. – AP Photo


The night before the Oscars, in India, we were re-enacting the last few scenes of Slumdog Millionaire. The ones in which vast crowds of people – poor people – who have nothing to do with the game show, gather in the thousands in their slums and shanty towns to see if Jamal Malik will win. Oh, and he did. He did. So now everyone, including the Congress Party, is taking credit for the Oscars that the film won!



The party claims that instead of India Shining it has presided over India 'Achieving'. Achieving what? In the case of Slumdog, India's greatest contribution, certainly our political parties’ greatest contribution is providing an authentic, magnificent backdrop of epic poverty, brutality and violence for an Oscar-winning film to be shot in. So now that too has become an achievement? Something to be celebrated? Something for us all to feel good about? Honestly, it's beyond farce.

And here’s the rub: Slumdog Millionaire allows real-life villains to take credit for its cinematic achievements because it lets them off the hook. It points no fingers, it holds nobody responsible. Everyone can feel good. And that’s what I feel bad about.



So that’s about what’s not in the film. About what’s in it: I thought it was nicely shot. But beyond that, what can I say other than that it is a wonderful illustration of the old adage, ‘there's a lot of money in poverty’.

The debate around the film has been framed – and this helps the film in its multi-million-dollar promotion drive – in absurd terms. On the one hand we have the old 'patriots' parroting the line that "it doesn't show India in a Proper Light' (by now, even they’ve been won over thanks to the Viagra of success). On the other hand, there are those who say that Slumdog is a brave film that is not scared to plum the depths of India 'not-shining'.

Slumdog Millionaire does not puncture the myth of ‘India shining'— far from it. It just turns India 'not-shining' into another glitzy item in the supermarket. As a film, it has none of the panache, the politics, the texture, the humour, and the confidence that both the director and the writer bring to their other work. It really doesn’t deserve the passion and attention we are lavishing on it. It's a silly screenplay and the dialogue was embarrassing, which surprised me because I loved The Full Monty (written by the same script writer). The stockpiling of standard, clichéd, horrors in Slumdog are, I think, meant to be a sort of version of Alice in Wonderland – ‘Jamal in Horrorland’. It doesn't work except to trivialize what really goes on here. The villains who kidnap and maim children and sell them into brothels reminded me of Glenn Close in 101 Dalmatians.



Politically, the film de-contextualises poverty – by making poverty an epic prop, it disassociates poverty from the poor. It makes India’s poverty a landscape, like a desert or a mountain range, an exotic beach, god-given, not man-made. So while the camera swoops around in it lovingly, the filmmakers are more picky about the creatures that
inhabit this landscape.

To have cast a poor man and a poor girl, who looked remotely as though they had grown up in the slums, battered, malnutritioned, marked by what they’d been through, wouldn't have been attractive enough. So they cast an Indian model and a British boy. The torture scene in the cop station was insulting. The cultural confidence emanating from the obviously British 'slumdog' completely cowed the obviously Indian cop, even though the cop was supposedly torturing the slumdog. The brown skin that two share is too thin to hide a lot of other things that push through it. It wasn’t a case of bad acting – it was a case of the PH balance being wrong. It was like watching black kids in a Chicago slum speaking in Yale accents.

Many of the signals the film sent out were similarly scrambled. It made many Indians feel as though they were speeding on a highway full of potholes. I am not making a case for verisimilitude, or arguing that it should not have been in English, or suggesting anything as absurd as 'outsiders can never understand India.' I think plenty of Indian filmmakers fall into the same trap. I also think that plenty of Indian filmmakers have done this story much, much better. It's not surprising that Christian Colson – head of Celedor, producers of ‘Who Wants to be a Millionaire?’ – won the Oscar for the best film producer. That's what Slumdog Millionaire is selling: the cheapest version of the Great Capitalist dream in which politics is replaced by a game show, a lottery in which the dreams of one person come true while, in the process, the dreams of millions of others are usurped, immobilizing them with the drug of impossible hope (work hard, be good, with a little bit of luck you could be a millionaire).


The pundits say that the appeal of the film lies in the fact that while in the West for many people riches are turning to rags, the rags to riches story is giving people something to hold on to. Scary thought. Hope, surely, should be made of tougher stuff. Poor Oscars. Still, I guess it could have been worse. What if the film that won had been like Guru – that chilling film celebrating the rise of the Ambanis. That would have taught us whiners and complainers a lesson or two. No?