Friday, 30 January 2009

بی بی سی اور غزہ




















بی بی سی اور غزہ


وسعت اللہ خانبی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2009, 11:21 GMT 16:21 PST

بی بی سی نے غزہ متاثرین کے لیے امدادی اپیل نشر کرنے سے منع کردیا تھا
اب سے سترہ برس پہلے جب میں نے بی بی سی کی ملازمت اختیار کی تو ایک تربیتی ورکشاپ کے دوران انسٹرکٹر نے یہ نکتہ بھی بتایا کہ بی بی سی مفادِ عامہ کی بنیاد پر قائم نشریاتی ادارہ ہے جو کسی خاص مفاد، لابی یا حکومت کا ترجمان نہیں ہے۔اس لئے بی بی سی کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ ذاتی تعصبات اور دباؤ سے بالا ہوکر حقائق میں ردوبدل کیے بغیر متوازن اور غیرجانبدارانہ صحافت کو یقینی بنایا جائے۔
ورکشاپ میں توازن اور غیرجانبداری کے موضوع پر کئی دلچسپ سوالات سامنے آئے۔ایک سوال یہ تھا کہ اگر کسی مظاہرے پر گولی چل جائے اور آپ کے سامنے کچھ لوگ شدید زخمی حالت میں پڑے ہوں تو کیا آپ انکی جان بچانے کے لئے کسی بھی طرح کی مدد کریں گے یا خود کو صرف رپورٹنگ تک ہی محدود رکھیں گے۔ ورکشاپ کے کچھ شرکاء کا خیال تھا کہ ہمیں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ بحیثیت انسان متاثرہ لوگوں کی ممکنہ مدد بھی کرنی چاہئیے۔ جبکہ کچھ کا خیال تھا کہ ہماری ذمہ داری صرف حقائق کی رپورٹنگ ہے۔اس سے زیادہ کچھ کرنے پر ہم اس واقعہ میں فریق بن جائیں گے۔
ایک سوال یہ بھی اٹھا کہ پیشہ ورانہ توازن یا غیرجانبداری کوئی جامد شئے ہے یا زمانے کے ساتھ ساتھ اس کی تشریح و توضیح بھی دیگر تشریحات کی طرح تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
مثلاً آج جسے صحافتی توازن اور غیرجانبداری کہا جاتا ہے،اگر اس تشریح کو دوسری عالمی جنگ کے دور پر لاگو کیا جاتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ ریڈیو سے چارلس ڈیگال سمیت یورپ کے ان تمام جلاوطن رہنماؤں کو ایسے خطابات و اعلانات نشر کرنے کی اجازت ہوتی جن کا مقصد اپنے اپنے ملکوں پر قابض نازیوں کے خلاف قومی مزاحمت کو ابھارنا تھا۔ تاوقتیکہ ہٹلر کے نمائندوں کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا۔
بی بی سی کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس طرح کی امدادی اپیل چاہے کتنی ہی احتیاط سے کیوں نہ مرتب کی جائے۔اسے نشر کرنے سے بی بی سی کی غیرجانبداری پر عوامی اعتماد مجروح ہوسکتا ہے۔یہ دلیل درست نہ سمجھنے والوں کا موقف یہ ہے کہ ماضی میں برما کےسمندری طوفان کے متاثرین کی امداد کے لئے بی بی سی ڈی ای سی کی انسانی اپیل نشر کرچکا ہے۔تو کیا انسانی امداد کی ضرورت صرف سمندری طوفان کے متاثرین کو ہوتی ہے۔بموں

اور اگر اسی نشریاتی پالیسی پر عالمی جنگ کے بعد بھی کاربند رہا جاتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ بی بی سی انیس سو بیاسی میں برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان لڑی جانے والی فاک لینڈ جنگ کی کوریج آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے کرنے کے حق پر تھیچر حکومت کی نکتہ چینی کے باوجود ڈٹا رہتا۔ یہ وہ سوالات تھے جن کا تربیتی ورکشاپ میں کوئی متفقہ جواب سامنے نہ آسکا۔
اسی طرح جب سن دو ہزار تین میں عراق امریکہ جنگ کے دوران صحافیوں کو امریکی اور برطانوی فوجی یونٹوں کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ تو یہ سوال اٹھا کہ کیااس طرح کی رپورٹنگ بی بی سی کی توازن اور غیرجانبداری کی تعریف پر پورا اتر سکے گی۔اس کا یہ حل نکالا گیا کہ فوجی یونٹوں سے منسلک رپورٹر یا بی بی سی کے میزبان ہر مراسلے کے بعد یہ وضاحت کریں گے کہ یہ رپورٹنگ کن حالات میں کی جا رہی ہے۔
یہ باتیں مجھے یوں یاد آرہی ہیں کہ بی بی سی نے برطانوی فلاحی تنظیموں کے گروپ ڈزآسٹر ایمرجنسی کمیٹی ( ڈی ای سی) کی جانب سے غزہ کے متاثرین کی اپیل یہ کہہ کر نشرکرنے سے انکار کردیا ہے کہ اسے شبہہ ہے کہ موجودہ غیریقینی حالات میں ڈی ای سی کی امداد غزہ پہنچ پائے گی۔ تاہم بی بی سی کے اس موقف کے خلاف یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ یہ طے کرنا نشریاتی اداروں کا نہیں بلکہ امدادی اداروں کا کام ہے کہ وہ کس طرح امداد متاثرین تک پہنچاتے ہیں۔
بی بی سی کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس طرح کی امدادی اپیل چاہے کتنی ہی احتیاط سے کیوں نہ مرتب کی جائے۔اسے نشر کرنے سے بی بی سی کی غیرجانبداری پر عوامی اعتماد مجروح ہوسکتا ہے۔ یہ دلیل درست نہ سمجھنے والوں کا موقف یہ ہے کہ ماضی میں برما کےسمندری طوفان کے متاثرین کی امداد کے لئے بی بی سی ڈی ای سی کی انسانی اپیل نشر کر چکا ہے۔ تو کیا انسانی امداد کی ضرورت صرف سمندری طوفان کے متاثرین کو ہوتی ہے۔ بموں کے متاثرین کو نہیں ہوتی۔اور اگر پھر بھی بی بی سی کو اپیل نشر کرنے میں تامل ہے تو وہ اس اعلان کے ساتھ بھی یہ نشر کرسکتا ہے کہ اس اپیل کے مواد کا بی بی سی کی ادارتی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے بی بی سی اور دیگر نشریاتی ادارے برطانوی سیاسی جماعتوں کا منشور پارٹی پولٹیکل براڈ کاسٹ کہہ کر نشر کرتے ہیں۔
اس تنازعے میں ایک جانب بی بی سی تنہا کھڑا ہے تو دوسری جانب بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں، حکومتِ برطانیہ اور آئی ٹی وی ، چینل فور اور چینل فائیو جیسے نشریاتی ادارے ہیں۔جن کا موقف ہے کہ غزہ کا المیہ جتنا عسکری یا سیاسی ہے۔اس سے کہیں زیادہ انسانی ہے۔

Wednesday, 28 January 2009

یشنل کالج آف آرٹس سے فارغ تحصیل ہونے والے طلباء کے کام کی نمائش۔




این سی اے میں نمائش

نیشنل کالج آف آرٹس سے فارغ تحصیل ہونے والے طلباء کے کام کی نمائش۔



NATIONAL COLLEGE OF ARTS -LAHORE PAKISTAN , STUDENTS ARE PRESENTING THIER FINAL THESIS THROUGH AN EXHABITION.

Tuesday, 27 January 2009

پروفیسر دانی کی رحلت، ناقابلِ تلافی نقصان




وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 January, 2009, 13:29 GMT 18:29 PST



پروفیسر دانی کی رحلت، ناقابلِ تلافی نقصان


عارف وقاربی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور


وسط ایشیا کا علاقہ پروفیسردانی کی دلچسپی اور مطالعے کا محور رہا
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پروفیسر احمد حسن دانی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی رحلت سے قوم کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ صدر پاکستان کے بقول اُن جیسے ہمہ صفت ماہرینِ عمرانیات و لسانیات روز روز پیدا نہیں ہوتے۔
پروفیسر دانی کا، پِیر 26 جنوری کو، 88 برس کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال ہو گیا تھا۔
تیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف احمد حسن دانی کی آخری کتاب تاریخِ پاکستان حال ہی میں منظرِ عام پر آئی تھی۔ اُن کی دیگر معروف تصنیفات شمالی پاکستان اور وسط ایشیا کی قدیم تاریخ سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے ساسانی بادشاہت پر بھی تحقیقی کام کیا اور جے پی موہن کے ساتھ مل کر تاریخِ انسانیت نامی انسائیکلو پیڈیا کی تیسری جلد مرتب کی۔
وہ شمالی علاقہ جات کی مختلف بولیوں بلتی، شِنا اور بروشسکی وغیرہ سے تو واقفیت رکھتے ہی تھے لیکن جن چودہ زبانوں پر انھیں مکمل عبور حاصل تھا اُن میں اردو، ہندی، بنگالی، پنجابی، سندھی، فارسی، ترکی، پشتو، سرائیکی، کشمیری، مراٹھی، تامل، فرانسیسی اور سنسکرت جیسی متنوع زبانیں شامل تھیں۔
وہ شمالی علاقہ جات کی مختلف بولیوں بلتی، شِنا اور بروشسکی وغیرہ سے تو واقفیت رکھتے ہی تھے لیکن جن چودہ زبانوں پر انھیں مکمل عبور حاصل تھا اُن میں اردو، ہندی، بنگالی، پنجابی، سندھی، فارسی، ترکی، پشتو، سرائیکی، کشمیری، مراٹھی، تامل، فرانسیسی اور سنسکرت جیسی متنوع زبانیں شامل تھیں

احمد حسن دانی نسلاً کشمیری تھے اور 20 جولائی 1920 کو رائے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے 1944 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ وہ اس ادارے سے ایم اے کی ڈگری لینے والے پہلے مسلمان طالبِ علم تھے۔ اگلے ہی برس انھوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ میں ملازمت اختیار کر لی اور پہلے ٹیکسلا اور اُس کے بعد موہنجوڈارو میں ہونے والی کھدائی میں حصّہ لیا۔
آثارِ قدیمہ میں اُن کی بے حد دلچسپی کے پیشِ نظر انھیں برطانیہ کی حکومت نے تاج محل جیسے اہم تاریخی مقام پر متعین کردیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے اور ڈھاکہ میں فرائض انجام دینے لگے۔
تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل ہی میں پروفیسر دانی نے محسوس کر لیا تھا کہ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کو عوام تک پہنچانے کے لئے عجائب گھروں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ 1950 میں انھوں نے وریندر میوزیم راجشاہی کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصہ بعد جب انھیں ڈھاکہ میوزیم کا ناظم مقرر کیا گیا تو انھوں نے بنگال کی مسلم تاریخ کے بارے میں کچھ نادر تاریخی نشانیاں دریافت کیں جو کہ آج بھی ڈھاکہ میوزیم میں دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
متحدہ ہندوستان میں انگریز ماہرین کے تحت کام کرتے ہوئے پروفیسر دانی کے دِل میں اس بیش بہا تاریخی، ثقافتی اور تمدنی خزانے کو دیکھنے کی تمنّا پیدا ہوئی تھی جو انگریزوں نے اپنے طویل دور میں جمع کر لیا تھا۔ پروفیسر دانی کی یہ خواہش بیس پچیس برس بعد اس وقت پوری ہوئی جب خود ان کا نام تاریخ اور عمرانیات کے مطالعے میں ایک حوالہ بن چُکا تھا۔ سن ستر کی دہائی میں انھیں انگلستان اور امریکہ کے طویل مطالعاتی دوروں کا موقع مِلا۔
خود اُن کے علم و بصیرت کی چکا چوند جب مغربی دنیا میں پہنچی تو آسٹریلیا سے کینیڈا تک ہر علمی اور تحقیقی اِدارہ اُن کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کی دوڑ میں پیش پیش نظر آنے لگا۔ امریکہ، برطانیہ فرانس اور آسٹریلیا کے علاوہ انھیں جرمنی اور اٹلی میں بھی اعلیٰ ترین تعلیمی، تدریسی اور شہری اعزازات سے نوازا گیا۔
قائدِ اعظم یونیورسٹی سے تعلق
71 میں وہ اسلام آباد منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے قائدِاعظم یونیورسٹی میں علومِ عمرانی کا شعبہ قائم کیا اور 1980 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی سے منسلک رہے۔
گندھارا تہذیب میں بے پناہ دلچسپی کے باعث پروفیسر دانی کا بہت سا وقت پشاور یونیورسٹی میں گزرا۔ اسی زمانے میں انھوں نے پشاور اور لاہور کے عجائب گھروں کی تزئینِ نو کا بِیڑہ بھی اُٹھایا۔
1971 میں وہ اسلام آباد منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے قائدِاعظم یونیورسٹی میں علومِ عمرانی کا شعبہ قائم کیا اور 1980 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی سے منسلک رہے۔
ریٹائر ہونے کے بعد انھیں پتھروں پر کندہ قدیم تحریروں میں دلچسپی پیدا ہوگئی اور اواخرِعمر تک وہ گلگت اور بلتستان کے علاقوں میں، آثارِ قدیمہ کے جرمن ماہرین کی معاونت سے قدیم حجری کتبوں کے صدیوں سے سربستہ راز کھولنے کی کوشش میں مصروف رہے۔

Monday, 26 January 2009

Ace archaeologist Dr. Ahmad Hasan Dani dead





Ace archaeologist Dr Dani dead
By Our Staff Reporter www.dawn.com

ISLAMABAD, Jan 26: Internationally acclaimed archaeologist, historian and linguist Prof Dr Ahmad Hasan Dani died here on Monday morning. He was 88.
Dr Dani had been admitted to the Pakistan Institute of Medical Sciences five days ago with heart, kidney and diabetes problems. His condition deteriorated on Sunday night and he was shifted to the ICU where he died.
He is survived by his wife, three sons — Dr Anis Ahmad Dani, Navaid Ahmad Dani, Junaid Ahmad Dani — and daughter Fauzia Iqbal Butt. He has left behind a large number of admirers, students and friends to mourn his death.
President Asif Ali Zardari expressed profound grief over the death of Prof Dani and described it as a great loss to the nation. He said the country had lost an eminent historian. His death, the president said, had left a vacuum that would be hard to fill.
He said Dr Dani’s contribution to setting up of several museums in the country and his vast publications had set the pace for future course of action in this vital field.
Prof Dani was a world renowned historian. He was regarded as an authority on archaeology, culture, linguistics, Buddhism and Central Asian archaeology and history. He was Professor of Emeritus at the Quaid-i-Azam University, a distinction bestowed on him after his retirement as Dean of the Social Sciences Department in recognition of his contributions. He was founding director of the Taxila Institute of Asian Civilisations of the university since its establishment in 1997 and founding director of the Islamabad Museum.
During his long career, Prof Dani had held various academic positions and international fellowships and conducted archaeological excavations and research. He received a number of civil awards in Pakistan and abroad. As a recognised linguist, he was proficient in more than 14 national and international languages and dialects.
An ethnic Kashmiri, Dr Dani was born in Basna, in the district Raipur in India, on July 20, 1920. He did his Masters in 1944 and became the first Muslim graduate of Banaras Hindu University. In 1945, Prof Dani started work as an archaeologist with Sir Mortimer Wheeler and took part in excavations in Taxila and Moenjodaro. He was subsequently posted at the Department of Archaeology of British India at Taj Mahal.
After partition, he moved to Dhaka and worked as assistant superintendent of the Department of Archaeology. At that time, he rectified the Verandra Museum in Rajshahi. In 1950, he was promoted to the position of superintendent-in-charge of archaeology. For 12 years (1950-62), Prof Dani worked as associate professor of history at the University of Dhaka and also as curator at Dhaka museum. During this period, he carried out archaeological research on the Muslim history of Bengal.
He also worked as a research fellow at the School of Oriental and African Studies, University of London (1958-59). In 1969, he became Asian Fellow at the Australian National University, Canberra. In 1974, he went to the University of Pennsylvania as a visiting scholar. In 1977, he was a visiting professor at the University of Wisconsin-Madison.
Prof Dani was awarded honorary fellowships of the Royal Asiatic Society of Bangladesh (1969), German Archaeological Institute (1981), Ismeo, Rome (1986) and Royal Asiatic Society (1991).
He moved to the University of Peshawar in 1962 as professor of archaeology and remained there till 1971. He conducted a number of archaeological explorations and excavations on the Stone Age and Gandhara civilisation in the Northern Areas and guided the resetting and renovation of Lahore and Peshawar museums.
In 1971, he moved to Quaid-i-Azam University in Islamabad where he established the Faculty of Social Sciences and served as its dean until his retirement in 1980.
He received an honorary doctorate from Tajikistan University in Dushanbe in 1993. The same year, Prof Dani established the Islamabad museum. Between 1992 and 1996, he was appointed adviser on archaeology to the ministry of culture. Between 1994 and 1998, he worked as chairman of the National Fund for Cultural Heritage in Islamabad. In 1997, he became honorary director at the Taxila Institute of Asian Civilisations.
Dr Dani took part in exclusive excavation works on the pre-Indus civilisation site of Rehman Dheri in northern Pakistan. He also made a number of discoveries of Gandhara sites in Peshawar and Swat and worked on Indo-Greek sites in Dir.
From 1985 he was involved in research focussing on documentation of ancient rock carvings and inscriptions on remains from the Neolithic age in the mountainous region of Gilgit-Baltistan, along with Harald Hauptmann of Heidelberg Academy of Sciences, University of Heidelberg. In 1990-91, he led Unesco’s international scientific teams for the Desert Route Expedition of Silk Road in China and the Steppe Route Expedition of the Silk Road in the former Soviet Union.
He was awarded Hilal-i-Imtiaz in 2000 and Sitara-i- Imtiaz in 1969 in recognition of his meritorious contributions. He was also awarded Légion d’Honneur by the French government in 1998, Aristotle Silver Medal by Unesco in 1997, Order of Merit by the government of Germany in 1996 and Knight Commander by the government of Italy in 1994.
Dr Dani authored more than 30 books, the latest being the History of Pakistan published in 2008. His other books include Historic City of Taxila, History of Northern Areas, Romance of the Khyber Pass, New Light on Central Asia, Central Asia Today and Human Records on Karakoram Highway.
He co-authored with J.P. Mohen the Volume III of History of Humanity, and with B.A. Litvinksy The Kushano-Sassanian Kingdom.
He was fluent in Bangla, French, Hindi, Kashmiri, Marathi, Pashto, Persian, Punjabi, Sanskrit, Seraiki, Sindhi, Tamil, Turkish and Urdu languages.
His funeral prayers will be held on Tuesday at the Abbasi market mosque, F-8/3, Islamabad, after Zohr prayers. He will be laid to rest at H-11 graveyard at 2pm

Sunday, 18 January 2009

’ہم پاگل ہیں چریا نہیں

وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2009, 18:20 GMT 23:20 PST



’ہم پاگل ہیں چریا نہیں‘


محمد حنیفمحمد حنیف، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی


لیفٹننٹ احمد شجاع پاشا آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ ہیں
پاکستان میں جب بھی آئی ایس آئی کا نیا چیف بنتا ہے تو اس کے بارے میں دفاعی مبصر ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک پروفیشنل سولجر ہیں لیکن جیسے ہی یہ حضرات ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ تو اصل میں فلسفی تھے۔ ایسی ایسی بات کرتے ہیں کہ انسان جھوم جھوم جاتا ہے۔
اختر عبدالرحمٰن جو پہلے افغان جہاد کے معمار سمجھے جاتے ہیں اپنے آپ کو فاتحِ سوویت یونین سمجھنے لگے تھے لیکن ریٹائر ہونے سے پہلے ہی اپنے باس جنرل ضیاالحق کے ہمراہ مارے گئے۔ اس لیے ان کے خیالات عالیہ جاننے کا موقع کم کم ملا۔ اس کے بعد حمید گل آ ئے اور جلال آباد فتح کرنے چل پڑے۔ بیس سال گزر چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک جلال آباد کے راستے میں ہیں۔ ہر اخبار، ہر ٹی وی چینل پر ان کا سٹاپ ہوتا ہے شاید اسی لیے یہ سفر کبھی ختم نہ ہوگا۔
جنرل اسد درّانی کے کارنامے کسی کو یاد نہیں لیکن میں نے انہیں بین الاقوامی کانفرسوں میں جگتیں لگا کر پاکستان کا امیج بہتر کرنے کی کوشش کرتے ضرور دیکھا ہے۔
پاگل اور چریا
بیچاری اردو زبان ایک جملے میں اتنی بلاغت سہنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اردو اور پنجابی ملا کر اچھا ترجمہ ہو سکتا ہے لیکن وہ قابل اشاعت نہیں ہوگا۔ اردو اور سندھی کے ملاپ سے کہا جا سکتا ہے ’ہم پاگل ہیں چریا نہیں‘۔

ان کے بعد آنے والے جنرل جاوید ناصر کو آپ نے کبھی دیکھا ہے؟ آپ نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہ پردہ کرتے ہیں۔ میں نے ٹی وی پر ان کا ایک انٹرویو دیکھا۔ انکا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔ میں سمجھا ٹی وی خراب ہے۔ پتہ چلا کہ انہوں نے ٹی وی والوں کو انٹرویو اس شرط پر دیا تھا کہ ان کے چہرے کے آگے سیاہ سکرین لگا دی جائے۔
اس کے بعد جنرل جاوید اشرف قاضی آئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد قوم کو تعلیم دینے کی ذمہ داری ان پر آن پڑی۔ پہلے انہوں نے بی بی سی کے ایک انٹرویو میں نواز لیگ کے صدیق الفاروق کو منہ بھر کے گالیاں دیں۔ بعد میں قرآن پاک کے سپارے کم لگے تو ان میں اضافہ کر دیا۔
ضیا الدین بٹ، نواز شریف کے ہاتھوں چار پھول لگوا کر صرف کچھ منٹ ہی فوج کے سربراہ رہے۔ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ انہیں ایسا صدمہ ہوا کہ آج تک کچھ نہیں بولے۔
جنرل محمود احمد نے اپنے باس جنرل مشرف کی غیر موجودگی میں حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں تخت پر بٹھایا لیکن مشرف کی ’وار آن ٹیرر‘ کے پہلے شکار بھی وہی بنے۔ آج کل سنا ہے تبلیغی اجتماعات کی رونقیں بڑھا رہے ہیں۔
لیکن زمانہ تیز ہو گیا ہے اسی لیے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ نے ریٹائر ہونے کا انتظار نہیں کیا اور حاضر سروس ہوتے ہوئے بھی دنیا کو اپنے خیالات عالیہ سے نوازنا شروع کر دیا۔ اور خیالات بھی کیسے ۔پاکستان کی تاریخ، جغرافیہ، معیشت، سیاست سب کو ایک جملے میں سمو دیا۔ جرمن رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ:The world thinks we are crazy but we are not completely out of our mindsبیچاری اردو زبان ایک جملے میں اتنی بلاغت سہنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اردو اور پنجابی ملا کر اچھا ترجمہ ہو سکتا ہے لیکن وہ قابل اشاعت نہیں ہوگا۔ اردو اور سندھی کے ملاپ سے کہا جا سکتا ہے ’ہم پاگل ہیں چریا نہیں‘۔
اس کو بلند آواز میں پڑھیں تو لگتا ہے کہ نہ صرف یہ غنائیت سے بھرپور ایک نعرہ ہے بلکہ پاکستان کے حالات کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔
جنرل شجاع نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی فرمایا کہ پاکستان میں طالبان جو بھی کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں اسے اس لیے نہیں روکا جاسکتا کہ آزادئ اظہار کا حق تو انہیں بھی ہے۔
فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے نے اس انٹرویو کی ایک نیم دلانہ تردید جاری کی اور کہا کہ کچھ باتیں سیاق و سباق کے بغیر لکھی گئی ہیں۔ لیکن انٹرویو لینے والے نے یہ بھی لکھا کہ جنرل موصوف انتہائی شستہ جرمن بول رہے تھے جس سے میرا یہ شک اور پکا ہوا کہ جنرل شجاع کی وردی کے پیچھے ایک فلاسفر چھپا ہوا ہے۔ آخر جرمن بڑے بڑے فلسفیوں کی زبان رہی ہے۔ علامہ اقبال نے بھی جرمن فلسفہ پڑھنے کے بعد ہی پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔
جُگت برائے امیج
جنرل اسد درّانی کے کارنامے کسی کو یاد نہیں لیکن میں نے انہیں بین الاقوامی کانفرسوں میں جگتیں لگا کر پاکستان کا امیج بہتر کرنے کی کوشش کرتے ضرور دیکھا ہے۔

تو ایک ایسے ملک میں جہاں ایک طرف سوات میں بچیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہے، جہاں وزیرستان کے باسیوں کو اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں ہے، جہاں بلوچستان کے رہنے والوں کو اپنے ہی وسائل کا حق مانگنے کی اجازت نہیں ہے، جہاں ملک کے کروڑوں غریبوں کو عزت سے جینے اور مرنے کی اجازت نہیں ہے وہاں کم ازکم طالبان کے لیے آزادئ اظہار تو ہے۔ یہ ملک ’پاگل ہوں چریا نہیں‘ کی ایک جیتی جاگتی تصویر نہیں تو اور کیا ہے۔
پاکستانی بچوں کو سکول میں اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کا درس دیا جاتا ہے۔ یہی نعرہ کئی سرکاری دستاویزات اور عمارتوں پر بھی لکھا نظر آتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اسے خیرباد کہہ کر پاگل ہوں چریا نہیں کو اپنا قومی نعرہ بنا لیں۔ اگر میرے پاسپورٹ پر یہ نعرہ لکھا ہوگا تو اپنا سر فخر سے بلند کر کے دنیا میں کہیں بھی جا سکوں گا۔ اور جہاں جاؤں گا انہیں بھی پاسپورٹ دیکھ کر پتہ چل جائے گا کہ کون آیا ہے۔

Saturday, 22 November 2008

نظریۂ اضافیت کی تصدیق ہوگئی






وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 15:23 GMT 20:23 PST




نظریۂ اضافیت کی تصدیق ہوگئی

عارف وقاربی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور


مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں ڈھل سکتے ہیں اور زمان و مکان بھی ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں
لاہور کے علاقے گلبرگ میں کتابوں کی ایک دکان پر آج کل سائنس کے طالب علموں اور پروفیسروں کی غیر معمولی بھیڑ ہے کیونکہ یہاں آئین سٹائین کے مشہور زمانہ نظریۂ اضافیت کا اصل مسودہ تصویری شکل میں موجود ہے۔
بڑی تقطیع کی یہ رجسٹر نما کتاب اتنی مہنگی ہے کہ کوئی طالب علم یا استاد ذاتی طور پر اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ لائبریریوں کے منتظمین شاید اس کتاب کی اہمیت و افادیت ہی سے واقف نہیں ہیں اس لئے توقع ہے کہ عرصہ دراز تک یہ کتاب شائقین کی زیارت کےلئے اس دکان میں موجود رہے گی۔
1905 کی سپیشل تھیوری کا یہ مسودہ آئین سٹائین کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اور جرمن زبان میں ہے، لیکن ہر صفحے کے مقابل اسکا انگریزی ترجمہ بھی پرنٹ کر دیا گیا ہے۔ آئین سٹائین نے عبارت کے جِن حِصوں پر بعد میں قلم پھیر دیا تھا اُن پر خطِ تنسیخ اس طرح سے پھیرا گیا ہے کہ اصل عبارت صاف پڑھی جاسکے اور محققین اندازہ کر سکیں کہ عظیم ماہرِ طبیعات نے اپنے کِن بیانات کو بعد میں مسترد کر دیا تھا یا اُن میں ترمیم کی ضرورت محسوس کی تھی۔
ایک سو تین برس کے بعد اچانک اِس تھیوری میں لوگوں کی دلچسپی پھر سے کیوں پیدا ہوگئی ہے؟ - یہ محض اتفاق نہیں ہے، بلکہ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔
آئین سٹائین نے ایک صدی پہلے اپنا اضافیت کا نظریہ محض ایک الہام کے طور پر پیش کیا تھا – ایک ایسا الہام جس کے درست ہونے پر اسے سو فیصد یقین تھا، تاہم حسابی طور پر اس نظریے کو ثابت کرنا پوری ایک صدی تک ماہرینِ طبیعات و ریاضی کےلئے ایک چیلنج بنا رہا۔
اب فرانس، جرمنی اور ہنگری کے ماہرینِ طبیعات نے انتہائی عرق ریزی سے دنیا کے بہترین سُپر کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے ایٹم کے تابع ذرّات یعنی نیوٹرون اور پروٹون کی کمیت دریافت کی ہے۔ یہ تابع ذرات خود بھی چھوٹے چھوٹے ذرات کا مجموعہ ہوتے ہیں جو کہ کوارک کہلاتے ہیں اور جو شے اِن ذرات کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے اُسے گُلواون کا نام دیا گیا ہے۔
ایک صدی کی آزمائش
آئین سٹائین نے ایک صدی پہلے اپنا اضافیت کا نظریہ محض ایک الہام کے طور پر پیش کیا تھا، ایک ایسا الہام جس کے درست ہونے پر اسے سو فیصد یقین تھا، تاہم حسابی طور پر اس نظریے کو ثابت کرنا پوری ایک صدی تک ماہرینِ طبیعات و ریاضی کےلئے ایک چیلنج بنا رہا

آزمائش کے جدید آلات کے ذریعے پہلی بار ممکن ہوا ہے کہ ان تابع ذرات کی کمیت معلوم کی جاسکے اور ایسا کرنے پر یہ حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی ہے کہ ایٹم میں کوارک ذرات کی کمیت محض پانچ فیصد ہوتی ہے جب کہ انھیں باندھ کے رکھنے والے گُلو اون کی کمیت صفر ہوتی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بقیہ 95 فیصد کمیت کہاں گئی؟
فرانس، جرمنی اور ہنگری کے ماہرینِ طبیعات نے جمعرات 20 نومبر 2008 کو جو بیان جاری کیا ہے، اس کی رُو سے تابع ذرات کا 95 فیصد مادہ اُس توانائی میں تبدیل ہوجاتا ہے جو اِن ذرات (کوارک اور گلواون) کی باہمی حرکت سے پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح آئین سٹائین کا وہ اندازہ پایہ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے جو اس نے 1905 میں لگایا تھا اور جس کی رُو سے مادہ اور توانائی ایک ہی حقیقت کی دو صورتیں ہیں جو کہ ایک دوسری میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ آئین سٹائین کی معروف مساواتE = mc2کا مفہوم سادہ لفظوں میں یہی ہے کہ مادہ تبدیل ہو کر توانائی کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور توانائی اپنا روپ بدل کر مادہ بن سکتی ہے، جیسا کہ ’بِگ بینگ‘ کے بعد کائناتی ارتقاء میں ہوا اور چار سُو پھیلی ہوئی ہمہ گیر اور یکساں توانائی جگہ جگہ سِمٹ کر ٹھوس اجسام میں بدل گئی اور اس سِمٹاؤ سے اس ہمہ گیر خلا میں جگہ جگہ سقم یا ٹیڑھا پن آگیا اور یہی ٹیڑھاپن آج ٹھوس اجسام کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور کششِ ثقل کہلاتا ہے۔ چونکہ تمام اجرامِ فلکی توانائی کی بے پناہ مقدار کے سِمٹ کر ٹھوس ہو جانے کے باعث وجود میں آئے ہیں اس لئے ہر ٹھوس شے کا باطن اپنے اندر توانائی کا طوفان دبائے ہوئے ہے۔
ایٹم بم کی ساخت کے پیچھے یہی نظریہ کافرما تھا کہ مادے میں قید توانائی کو کسی طرح آزاد کردیا جائے تو وہ تباہی مچا دےگی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اولین ایٹمی دھماکے سے بہت پہلے علامہ اقبال نے بھی الہام کے زور پہ کہہ دیا تھا کہ:حقیقت ایک ہے ہرشے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا نکلے، اگر ذرّے کا دِل چیریں !
آئین سٹائین تختۂ سیاہ پر مشہور زمانے اکویشن تحریر کرتے ہوئےفرانس کے قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق نے جو بیان جاری کیا ہے اسے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ماہرینِ طبیعات نہ صرف ذرّے کا دِل چیرنے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ نئے آلاتِ پیمائش کی مدد سے انھوں نے آئین سٹائین کے سو برس پرانے اس مفروضے پر بھی مہرِ توثیق ثبت کردی ہے کہ مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں ڈھل سکتے ہیں اور زمان و مکان بھی ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔

Friday, 21 November 2008

e=mc2: 103 years later, Einstein's proven right

e=mc2: 103 years later, Einstein's proven right


Digg Facebook Newsvine del.icio.us Reddit StumbleUpon Technorati Yahoo! Bookmarks Print Thu Nov 20, 6:56 pm ET AFP/File – People walk past a giant sculpture featuring Albert Einstein's formula "E=mc2" in front … PARIS (AFP) – It's taken more than a century, but Einstein's celebrated formula e=mc2 has finally been corroborated, thanks to a heroic computational effort by French, German and Hungarian physicists.

A brainpower consortium led by Laurent Lellouch of France's Centre for Theoretical Physics, using some of the world's mightiest supercomputers, have set down the calculations for estimating the mass of protons and neutrons, the particles at the nucleus of atoms.

According to the conventional model of particle physics, protons and neutrons comprise smaller particles known as quarks, which in turn are bound by gluons.

The odd thing is this: the mass of gluons is zero and the mass of quarks is only five percent. Where, therefore, is the missing 95 percent?

The answer, according to the study published in the US journal Science on Thursday, comes from the energy from the movements and interactions of quarks and gluons.

In other words, energy and mass are equivalent, as Einstein proposed in his Special Theory of Relativity in 1905.