Sunday, 18 January 2009

’ہم پاگل ہیں چریا نہیں

وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2009, 18:20 GMT 23:20 PST



’ہم پاگل ہیں چریا نہیں‘


محمد حنیفمحمد حنیف، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی


لیفٹننٹ احمد شجاع پاشا آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ ہیں
پاکستان میں جب بھی آئی ایس آئی کا نیا چیف بنتا ہے تو اس کے بارے میں دفاعی مبصر ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک پروفیشنل سولجر ہیں لیکن جیسے ہی یہ حضرات ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ تو اصل میں فلسفی تھے۔ ایسی ایسی بات کرتے ہیں کہ انسان جھوم جھوم جاتا ہے۔
اختر عبدالرحمٰن جو پہلے افغان جہاد کے معمار سمجھے جاتے ہیں اپنے آپ کو فاتحِ سوویت یونین سمجھنے لگے تھے لیکن ریٹائر ہونے سے پہلے ہی اپنے باس جنرل ضیاالحق کے ہمراہ مارے گئے۔ اس لیے ان کے خیالات عالیہ جاننے کا موقع کم کم ملا۔ اس کے بعد حمید گل آ ئے اور جلال آباد فتح کرنے چل پڑے۔ بیس سال گزر چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک جلال آباد کے راستے میں ہیں۔ ہر اخبار، ہر ٹی وی چینل پر ان کا سٹاپ ہوتا ہے شاید اسی لیے یہ سفر کبھی ختم نہ ہوگا۔
جنرل اسد درّانی کے کارنامے کسی کو یاد نہیں لیکن میں نے انہیں بین الاقوامی کانفرسوں میں جگتیں لگا کر پاکستان کا امیج بہتر کرنے کی کوشش کرتے ضرور دیکھا ہے۔
پاگل اور چریا
بیچاری اردو زبان ایک جملے میں اتنی بلاغت سہنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اردو اور پنجابی ملا کر اچھا ترجمہ ہو سکتا ہے لیکن وہ قابل اشاعت نہیں ہوگا۔ اردو اور سندھی کے ملاپ سے کہا جا سکتا ہے ’ہم پاگل ہیں چریا نہیں‘۔

ان کے بعد آنے والے جنرل جاوید ناصر کو آپ نے کبھی دیکھا ہے؟ آپ نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہ پردہ کرتے ہیں۔ میں نے ٹی وی پر ان کا ایک انٹرویو دیکھا۔ انکا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔ میں سمجھا ٹی وی خراب ہے۔ پتہ چلا کہ انہوں نے ٹی وی والوں کو انٹرویو اس شرط پر دیا تھا کہ ان کے چہرے کے آگے سیاہ سکرین لگا دی جائے۔
اس کے بعد جنرل جاوید اشرف قاضی آئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد قوم کو تعلیم دینے کی ذمہ داری ان پر آن پڑی۔ پہلے انہوں نے بی بی سی کے ایک انٹرویو میں نواز لیگ کے صدیق الفاروق کو منہ بھر کے گالیاں دیں۔ بعد میں قرآن پاک کے سپارے کم لگے تو ان میں اضافہ کر دیا۔
ضیا الدین بٹ، نواز شریف کے ہاتھوں چار پھول لگوا کر صرف کچھ منٹ ہی فوج کے سربراہ رہے۔ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ انہیں ایسا صدمہ ہوا کہ آج تک کچھ نہیں بولے۔
جنرل محمود احمد نے اپنے باس جنرل مشرف کی غیر موجودگی میں حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں تخت پر بٹھایا لیکن مشرف کی ’وار آن ٹیرر‘ کے پہلے شکار بھی وہی بنے۔ آج کل سنا ہے تبلیغی اجتماعات کی رونقیں بڑھا رہے ہیں۔
لیکن زمانہ تیز ہو گیا ہے اسی لیے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ نے ریٹائر ہونے کا انتظار نہیں کیا اور حاضر سروس ہوتے ہوئے بھی دنیا کو اپنے خیالات عالیہ سے نوازنا شروع کر دیا۔ اور خیالات بھی کیسے ۔پاکستان کی تاریخ، جغرافیہ، معیشت، سیاست سب کو ایک جملے میں سمو دیا۔ جرمن رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ:The world thinks we are crazy but we are not completely out of our mindsبیچاری اردو زبان ایک جملے میں اتنی بلاغت سہنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اردو اور پنجابی ملا کر اچھا ترجمہ ہو سکتا ہے لیکن وہ قابل اشاعت نہیں ہوگا۔ اردو اور سندھی کے ملاپ سے کہا جا سکتا ہے ’ہم پاگل ہیں چریا نہیں‘۔
اس کو بلند آواز میں پڑھیں تو لگتا ہے کہ نہ صرف یہ غنائیت سے بھرپور ایک نعرہ ہے بلکہ پاکستان کے حالات کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔
جنرل شجاع نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی فرمایا کہ پاکستان میں طالبان جو بھی کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں اسے اس لیے نہیں روکا جاسکتا کہ آزادئ اظہار کا حق تو انہیں بھی ہے۔
فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے نے اس انٹرویو کی ایک نیم دلانہ تردید جاری کی اور کہا کہ کچھ باتیں سیاق و سباق کے بغیر لکھی گئی ہیں۔ لیکن انٹرویو لینے والے نے یہ بھی لکھا کہ جنرل موصوف انتہائی شستہ جرمن بول رہے تھے جس سے میرا یہ شک اور پکا ہوا کہ جنرل شجاع کی وردی کے پیچھے ایک فلاسفر چھپا ہوا ہے۔ آخر جرمن بڑے بڑے فلسفیوں کی زبان رہی ہے۔ علامہ اقبال نے بھی جرمن فلسفہ پڑھنے کے بعد ہی پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔
جُگت برائے امیج
جنرل اسد درّانی کے کارنامے کسی کو یاد نہیں لیکن میں نے انہیں بین الاقوامی کانفرسوں میں جگتیں لگا کر پاکستان کا امیج بہتر کرنے کی کوشش کرتے ضرور دیکھا ہے۔

تو ایک ایسے ملک میں جہاں ایک طرف سوات میں بچیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہے، جہاں وزیرستان کے باسیوں کو اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں ہے، جہاں بلوچستان کے رہنے والوں کو اپنے ہی وسائل کا حق مانگنے کی اجازت نہیں ہے، جہاں ملک کے کروڑوں غریبوں کو عزت سے جینے اور مرنے کی اجازت نہیں ہے وہاں کم ازکم طالبان کے لیے آزادئ اظہار تو ہے۔ یہ ملک ’پاگل ہوں چریا نہیں‘ کی ایک جیتی جاگتی تصویر نہیں تو اور کیا ہے۔
پاکستانی بچوں کو سکول میں اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کا درس دیا جاتا ہے۔ یہی نعرہ کئی سرکاری دستاویزات اور عمارتوں پر بھی لکھا نظر آتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اسے خیرباد کہہ کر پاگل ہوں چریا نہیں کو اپنا قومی نعرہ بنا لیں۔ اگر میرے پاسپورٹ پر یہ نعرہ لکھا ہوگا تو اپنا سر فخر سے بلند کر کے دنیا میں کہیں بھی جا سکوں گا۔ اور جہاں جاؤں گا انہیں بھی پاسپورٹ دیکھ کر پتہ چل جائے گا کہ کون آیا ہے۔

No comments: